1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
عقیدہپاکستان

سویڈن مذہبی نفرت بڑھانے والے اقدامات روکے، پاکستان

30 جون 2023

بیشتر اسلامی ممالک نے اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کے واقعے پر سخت تنقید کی ہے۔ پاکستان نے سویڈش حکومت سے کہا ہے کہ وہ معاشرے میں مذہبی منافرت کو بڑھانے والے اقدامات کا تدارک کرے۔

https://p.dw.com/p/4TG7E
Schweden Koranverbrennung in Stockholm
تصویر: Stefan Jerrevång/TT NEWS AGENCY/picture alliance

 ترکی، سعودی عرب، پاکستان، ایران، عراق اور مصر سمیت دنیا کے کئی مسلم ممالک نے اسٹاک ہولم میں قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سویڈن میں قرآن سوزی سے متعلق ریلی پر پابندی

پاکستانی دفتر خارجہ نے سویڈن میں رونما ہونے والے اس واقعے پر اپنے رد عمل میں کہا، ’’آزادی اظہار اور احتجاج کی اجازت کے بہانے سے تشدد پر اکسانے والے عمل کو کسی بھی طرح سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ اسلام آباد کی طرف سے جاری بیان کے مطابق، ’’عالمی قوانین کے تحت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی منافرت کو ہوا دینے والے پر تشدد اقدامات کے تدارک کے لیے اقدام کرے۔‘‘

ڈنمارک: مسجد اور ترک سفارتخانے کے سامنے قرآن جلانے کا واقعہ

سفیروں کو واپس بلا لیا

مراکش اور اردن محض اس واقعے کی مذمت تک کے محدود نہیں رہے بلکہ سخت رد عمل کے طور پر دونوں نے سویڈن میں موجود اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی اس واقعےکی مذمت کی اور کہا، ’’نفرت انگیز اور بار بار دہرائے جانے والے ایسے اقدامات کو کسی بھی جواز کے ساتھ قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ جمعرات کے دن عراقی دارالحکومت بغداد میں واقع سویڈن کے سفارتخانے کے باہر اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا۔

قرآن نذر آتش کرنے کے خلاف کئی اسلامی ممالک میں شدید مظاہرے

’’شرمناک عمل‘‘

مصر نے اپنے ایک بیان کہا کہ یہ عمل "شرمناک" تھا اور خاص طور پر چونکہ یہ عید الاضحی کے موقع پر کیا گیا۔ قاہرہ کی وزارت خارجہ نے یورپ میں قرآن کی جلد جلانے کے بار بار ہونے والے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا،’’مصر کو بار بار  قرآن کو نذر آتش کرنے اور بعض یورپی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور مذاہب کی توہین کے واقعات میں اضافے پر گہری تشویش ہے اور قاہرہ حکومت ایسے تمام قابل مذمت اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، جو مسلمانوں کے مذہبی عقائد کو متاثر کرتے ہیں۔‘‘

ناروے پولیس کو نیا حکم، قرآن کی بے حرمتی کو روکا جائے

Salwan Momika in Stockholm
سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر کھڑے ہوکر ایک شخص نے قرآن کو نذر آتش کیا تھاتصویر: Stefan Jerrevång/TT /picture alliance

ناقابل قبول

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے اس واقعے کو اشتعال انگیز، غیر سنجیدہ اور ناقابل قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اور عوام اس طرح کی توہین برداشت نہیں کرتے اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’سویڈن کی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقدسات کی توہین کی تکرار کو روکتے ہوئے اس سلسلے میں ذمہ داری اور جوابدہی کے اصول پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ نے اس پر احتجاج کے لیے تہران میں سویڈن کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو بھی طلب کیا۔

قران نذر آتش کرنے کا منصوبہ منسوخ

ترکی کی وزارت خارجہ نے پہلے ہی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی جبکہ جمعرات کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس کے لیے سویڈن پر تنقید کی۔ انہوں نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم آخر کار متکبر مغربیوں کو یہ سکھائیں گے کہ مسلمانوں کی توہین کرنا آزادیِ فکر نہیں ہوتی۔‘‘

کویت اور اردن جیسے دیگر کئی اسلامی ممالک نے بھی سویڈن میں ہونے والے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

عراق میں مظاہرے

اسٹاک ہولم میں مسجد کے باہر قرآن پاک کو نذر آتش کیے جانے کے بعد سینکڑوں عراقیوں نے بغداد میں سویڈن کے سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا اور پھر عمارت پر دھاوا بول دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا ایک ہجوم تقریباً 15 منٹ تک سفارتخانے کے کمپاؤنڈ کے اندر نعرے بازی کرتا رہا اور پھر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے بعد مظاہرین کو وہاں سے نکالا گیا۔ عراقی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ قرآن کو نذر آتش کرنے کا مرتکب ایک عراقی ہے اور سویڈن کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے عراق کے حوالے کر دیں تاکہ اس پر ملکی قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جا سکے۔

شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنے پیروکاروں سے احتجاج جاری رکھنے اور سویڈن کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو چاہیے کہ وہ سویڈن کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لے۔

امریکہ کا رد عمل

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا، ’’کسی بھی مذہبی متن کو جلانا توہین اور تکلیف دہ ہے اور جو عمل قانونی ہو وہ ضروری نہیں کہ یقینی طور پر درست بھی ہو۔ ہم ہنگری اور ترکی کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کے پروٹوکول کی بغیر کسی مزید تاخیر کے توثیق کر دیں۔‘‘

ترکی نیٹو میں سویڈن کی شمولیت کی مخالفت کرتا رہا ہے اور قرآن  کے اوراق جلانے کے اس واقعے کے بعد اسٹاک ہوم کی نیٹو میں شمولیت کی کوششوں کو مزید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قرآن نذر آتش کرنے  کا واقعہ

سویڈن میں چند ماہ قبل بھی قرآن جلانے کا ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا اور اس وقت ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ سویڈن کو نیٹو اتحاد میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہولم کی مرکزی مسجد کے باہر کھڑے ہوکر ایک شخص نے قرآن کو نذر آتش کیا تھا۔ یہ واقعہ 28 جون بدھ کے روز اس وقت رونما ہوا، جب مسلمانوں نے عید الاضحیٰ کے اپنے تہوار کو منانے کا آغاز کیا۔

عدالت سے اجازت ملنے کے بعد قرآن کے صفحات کو نذر آتش کیا گیا تھا اور عدالت سے اس کی اجازت 30 سالہ ایک عراقی مہاجر نے لی تھی۔ وہ سویڈن میں قرآن پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ص ز/  (اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے، روئٹرز)

پرانے اور خستہ قرآنی اوراق کی تدفین