1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستفرانس

فرانسیسی انتخابات میں اسلام پر تنقید کا بڑھتا ہوا رجحان

10 فروری 2022

فرانسیسی معاشرے میں اسلام کا کردار وہاں جاری صدارتی انتخابی مہم میں ایک اہم ’میدان جنگ‘ کے طور پر اُبھرا ہے۔ بہت سے فرانسیسی مسلمانوں کو ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے خلاف بیان بازی نے بے چین کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/46oW0
Frankreich Toulouse | Protest gegen Islamhass
تصویر: Alain Pitton/NurPhoto/picture alliance

نیشنل ریلی (آر این) کی انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پین اور خاص طور پر سابق پنڈت ایرک زیمور نے سلامتی اور دہشت گردی کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اکثر اسلام کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

ان کے پیغامات کی تائید بعض اوقات قدامت پسند دائیں بازو کے عہدیداروں اور صدر ایمانوئل ماکروں کے اتحادی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام کے حوالے سے اس قدر شدید مہم کا فرانس کے ہمسایہ ممالک برطانیہ اور جرمنی میں تصور کرنا ہی مشکل ہے حالانکہ ان دونوں ملکوں میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی اقلیت آباد ہے۔

 تاہم فرانس میں ابھی تک الجزائر کی جنگ آزادی اور حال ہی میں سن 2015 کے جہادی حملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ زیمور صدر ماکروں کے خلاف دوسرے راؤنڈ کے رن آف تک پہنچنے کے لیے لی پین اور روایتی دائیں بازو کی امیدوار والیری پیکریس کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پیر کے روز شمالی فرانس کے روبائے قصبے کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ''پیرس سے دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع افغانستان‘‘ ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے شور مچا ہوا ہے۔

انہوں نے فرانس انٹر ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ''فرانسیسی شہری، جو مسلمان ہیں، فرانسیسی طریقے سے زندگی گزاریں اور یہ نہ سمجھیں کہ شرعی قانون جمہوریہ کے قوانین سے برتر ہے۔‘‘ ان کے ایسے تبصروں نے پہلے سے ہی موجود بے چینی کے ماحول میں اضافہ کر دیا ہے۔

سن 1905 میں فرانس میں چرچ اور ریاست کی باضابطہ تقسیم نے سیکولرازم کو جدید جمہوریہ کی شناخت کا سنگ بنیاد بنایا تھا۔ پھر ماکروں حکومت نے 2021ء  میں ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا، جسے صدر نے ''اسلامی علیحدگی پسندی‘‘ روکنے اور ملکی شناخت کے دفاع کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

فرانس اور مسلمان

نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے سے 1950ء  اور 1960ء کی دہائیوں میں فرانس کی طرف بڑے پیمانے پر ہجرت کا آغاز ہوا۔ تاہم 1970ء کے دہائی میں آنے والے معاشی بحران نے ان مہاجرین کے معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کیے۔

برطانیہ اور جرمنی بھی دوسری عالمی جنگ کے بعد بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے دوچار ہوئے لیکن کسی بھی دوسری یورپی نوآبادیاتی طاقت نے ایسی جنگ نہیں لڑی، جس کی درندگی، مدت اور نتائج کا موازنہ الجزائر کی جنگ آزادی سے کیا جا سکے۔

سیاسیات کے ماہر پاسکل پیرینیو کا کہنا ہے، ''ہجرت کا مسئلہ خاص طور پر فرانس میں موجود ہے کیونکہ یہ الجزائر کی جنگ کی بھیانک یاد کو جگاتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''اس نے اجتماعی شعور میں گہرے داغ چھوڑے ہیں۔‘‘

مسلمان خوف کا شکار

لیکن فرانس میں اسلام پر عشروں سے بحث جاری ہے اور اس ملک میں سن 2011ء میں خواتین کے نقاب کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لیکن بہت سے مسلمان، جو ملک کی آبادی کا تقریباً نو فیصد ہیں، رواں صدارتی انتخابات میں بیان بازی کی موجودہ سطح سے حیران ہیں۔

تیونسی نژاد ماہر نفسیات اور کتاب ''فرانس میں ایک عرب عورت‘‘ کی مصنفہ فاطمہ بوویٹ ڈی لا میسوننیو کا کہنا ہے، '' کبھی کبھی میں خود سے کہتی ہوں کہ کاش کوئی سمجھ سکے کہ یہ کتنا پرتشدد بیانیہ ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''سچ کہوں تو بعض اوقات ہم صرف عربوں کے درمیان ملنا چاہتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو بتا سکیں کہ حالات کتنے برے ہو چکے ہیں۔‘‘

دائیں بازو کی میرین لی پین سن 2002ء کے صدارتی انتخابات میں دوسرے راؤنڈ تک پہنچ گئی تھیں۔ ان کے والد ژاں میری لی پین کا بھی کہنا ہے کہ اسلام اور تارکین وطن کے خلاف بار بار  کے یکطرفہ بیانات نے فرانس کے بیشتر حصوں کو چونکا دیا ہے۔

فرانسیسی مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی بیان بازی کو اب معمول بنا لیا گیا ہے اور اس بیانیے کی میڈیا کی خبروں اور سوشل نیٹ ورکس پر حمایت بڑھ رہی ہے۔ وسطی فرانس کے علاقے لورے کی 38 سالہ سوشل ورکر فاطمہ کا کہنا تھا، ''میں بہت برا محسوس کرتی ہوں، بہت برا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''میرا یہ تاثر ہے کہ آج کا فرانس میرے دادا دادی پر تھوکتا ہے، جنہوں نے اسے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کی، میرے والدین پر، جو اس کی سڑکیں بنانے آئے تھے اور مجھ پر، جس نے جمہوریت اور انضمام کے تمام اصولوں کا احترام کیا۔‘‘

فاطمہ کا دکھ بھرے انداز میں کہنا تھا، ''کچھ دن پہلے میری پانچ سالہ بیٹی نے مجھے بتایا کہ اسے عرب ہونا پسند نہیں ہے۔‘‘ فاطمہ کے مطابق انہیں ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ باقی لوگ ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔

کامل ایک خیراتی انجمن کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 13 نومبر 2015 کی رات کو ہونے والے حملوں نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، ''میں نے اپنے ایسے بہت سے دوستوں سے راہیں جدا کر لیں، جو مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے لگے تھے۔‘‘

ممتاز ماہر عمرانیات احمد بوبکر کے لیے ''ایک ڈیم ٹوٹ گیا ہے‘‘ اور اب سیاسی شخصیات کی جانب سے مسلمانوں پر انضمام میں ناکامی کا الزام لگانے والوں کو ''روکنے  والوں کی مکمل کمی‘‘ ہے۔

ان کا کہنا ہے، ''تاہم میں اس بات پر قائل نہیں ہوں کہ فرانسیسی معاشرہ اتنا ہی نسل پرست ہے جتنا کہ ہم اسے کہتے ہیں۔ یہ سیاست دان ہی ہیں، جو نتائج کا اندازہ لگائے بغیر عوام میں نسل پرستی پیدا کر رہے ہیں۔‘‘

ا ا/ ب ج (اے ایف پی)