1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’مسلم خواتین کو ’برقینی‘ پہننے کی اجازت ہونا چاہیے‘

25 جون 2018

جرمن وزیر برائے خاندانی اُمور فرانسیسکا گیفی کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں مسلمان لڑکیوں کو پورا لباس پہن کر تیراکی کرنے کی اجازت ہونا چاہیے، تاکہ وہ تیراکی سیکھ سکیں۔

https://p.dw.com/p/30EDP
Bilder des Jahres 2016
تصویر: Reuters

جرمنی میں ’برقینی‘ یعنی تیراکی کے لیے مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس ایک موضوع گفت گو بنا ہوا ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ تیراکی کے لیے یہ لباس جنسی بنیادوں پر تفریق سے عبارت ہے اور اس کی جرمن اسکولوں میں کوئی جگہ نہیں ہونا چاہیے، تاہم جرمن وزیر برائے خاندانی امور فرانسیسکا گیفی کے مطابق مسلمان لڑکیوں کو مکمل جسم ڈھانپ کر تیراکی کی اجازت دینے سے انہیں تیراکی سکھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اتوار کے روز گیفی نے کہا، ’’مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس، برقینی، جرمن اسکولوں میں مسلمان لڑکیوں کے بہتر انضمام کی راہ ہم وار کر سکتا ہے۔ اس لباس کی اجازت دے کر انہیں تیراکی کی تربیت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ہنگری میں مساجد کی تعمیر اور اذان پر پابندی کے خلاف احتجاج

ہنگری کے ایک علاقے میں مسجد، مؤذن، برقعے و برقینی پر پابندی

فرانس میں دو با حجاب ماؤں کو اسکول سے باہر نکال دیا گیا

اتوار کے روز ایک تقریب میں گیفی نے کہا، ’’زیادہ اہم بات بچوں کی دیکھ بھال اور صحت ہے اور اس میں تیراکی شامل ہے۔‘‘ سوشل ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق رکھنے والی وزیر برائے خاندانی امور، اس سے قبل برلن کے علاقے نوئے کولن کی میئر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ اس علاقے میں تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔

دوسری جانب قدامت پسند جماعت سے تعلق رکھنے والی وزیرِ زراعت ژولیا کلوکنر نے گیفی کے اس بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لباس پادرانہ معاشرے کی علامت ہے اور اس کے لیے اسکولوں میں کوئی جگہ نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ برقینی تیراکی کا ایک ایسا لباس ہے، جس میں فقط ہاتھ، پاؤں اور چہرہ نمایاں ہوتا ہے اور باقی جسم ڈھکا ہوتا ہے۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی نائب وزیر برائے انضمام سیراب گیولر نے گیفی کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ’ایک غلط پیغام‘ لوگوں تک پہنچا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ جرمنی میں لڑکیوں کے برقینی پہننے سے متعلق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی ہے جب جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے علاقے ہیرنے کے ایک اسکول نے ان طالبات کو برقینی مفت تقسیم کی، جن کے والدین نے لڑکیوں کو تیراکی کی کلاسوں میں شرکت سے روک رکھا تھا۔ ریاستی حکومت کے ضوابط کے مطابق تاہم یہ ذمہ داری کسی اسکول کی نہیں ہے کہ وہ کسی معاملے میں طلبہ میں کسی بھی قسم کا خصوصی لباس یا آلات فراہم کرے، ساتھ ہی اسکولوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں کی الگ الگ کلاسز نہیں لے سکتے، یعنی تعلیم یا تربیت کے معاملے پر جنس کی بنیاد پر لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی تخصیص نہ کی جائے۔

 

 

ع ت / ص ح