1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

قرآن سوزی سے متعلق پاکستانی قرارداد اقوام متحدہ میں زیر بحث

11 جولائی 2023

مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کو جلانے اور مذہبی منافرت سے متعلق ایک متنازع مسودے پراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے میں آج بحث متوقع ہے۔ تاہم مغربی ممالک کو اس پر پاکستان کا تیار کردہ مسودہ پسند نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/4TiJE
Protest against the Quran Burning In London, UK - 28 Jan 2023
تصویر: Loredana Sangiuliano/SOPA/ZUMA/picture alliance

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے 'ہیومن رائٹس کونسل' (ایچ آر سی) میں 11 جولائی منگل کے روز مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے بعض صفحات جلانے کے پس منظر میں مذہبی منافرت سے متعلق ایک متنازع مسودے پر بحث کی توقع ہے۔ تاہم بعض مغربی ممالک مسودے کے متن سے خوش نہیں ہیں۔

سویڈن میں قرآن کے اوراق نذز آتش کرنے کے خلاف پاکستان میں آج ملک گیر احتجاج

قرارداد میں کیا کہا گیا ہے؟ 

ستاون ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے اس سلسلے میں پاکستان نے قرارداد کا جو مسودہ پیش کیا ہے، اس میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہولم میں قرآن کے صفحات کو نذر آتش کرنے کے واقعے کو ''جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیزی کا ایسا واضح فعل'' قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف نفرت کو ہوا دیتا ہے، بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

طالبان نے افغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں روک دیں

اس مسودے میں ''بعض یورپی ممالک اور دیگر ملکوں میں قرآن کو سر عام جلانے کی بار بار کی حرکتوں '' کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ تاہم مغربی سفارت کاروں نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ اس قرارداد کے مسودے میں انسانی حقوق کے بجائے مذہبی علامتوں کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔

سویڈن مذہبی نفرت بڑھانے والے اقدامات روکے، پاکستان

Schweden Koranverbrennung in Stockholm
کچھ دن پہلے ہی ایک عراقی مہاجر نے سویڈن کے دارالحکومت میں مرکزی مسجد کے باہر قرآن کے بعض صفحات کو نذر آتش کر دیا تھا، جس کے خلاف مسلم ممالک نے سخت رد عمل کا اطہار کیاتصویر: Stefan Jerrevång/TT NEWS AGENCY/picture alliance

مغربی ممالک کا اعتراض کیا ہے؟

ایک مغربی سفارت کار نے اس مسودے کے بارے میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ''ہمیں اس کا متن پسند نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ''انسانی حقوق کا تعلق افراد سے ہونا چاہیے، مذاہب سے نہیں۔''

 

او آئی سی نے یہ قرارداد ایک ایسے وقت پیش کی ہے جب اس گروپ کا ایچ آر سی پر غیر معمولی اثر و رسوخ ہے اور اس سے اس تنظیم اور مغربی ریاستوں کے درمیان مزید کشیدگی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔

47 رکنی ہیومن رائٹس کونسل میں فی الوقت او آئی سی کے 19 ممالک  شامل ہیں اور چین جیسے بعض دیگر ممالک نے بھی اس قرارداد کے مسودے کی حمایت کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان او آئی سی کے تمام ممالک کو اپنے ساتھ کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ سن 2021 میں یمن میں جنگی جرائم کی تحقیقات کو ختم کرنے کے لیے سعودی عرب نے کوشش کی تھی اور اسے ان کوششوں میں کامیابی بھی ملی تھی۔

کیا مغرب کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے؟

جنیوا میں قائم یونیورسل رائٹس گروپ کے ڈائریکٹر مارک لیمن کا کہنا ہے کہ ''اگر قرارداد منظور ہو جاتی ہے، جیسا کہ امکان بھی نظر آتا ہے، تو اس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملے گی کہ کونسل پلٹ رہی ہے۔ اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا کہ آزادی اظہار اور نفرت انگیز تقریر کے درمیان کی حد، اور یہ کیا مذاہب کے بھی حقوق ہیں، جیسی اہم بحثوں کے حوالے سے مغربی ممالک اپنی طاقت کھو رہے ہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''اس سے کونسل غصے سے بھی پھٹ سکتی ہے۔''

یورپی یونین کا مشورہ 

ادھر یورپی یونین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر پہلے اتفاق رائے پیدا کر لیں۔ یورپی یونین کے ایک سفارت کار نے گزشتہ ہفتے مذاکرات کے دوران کہا تھا، ''اقوام متحدہ میں کئی دہائیوں سے مذاہب کی توہین ایک مشکل موضوع رہا ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''یہ سوال کہ آزادی اظہار اور نفرت پر اکسانے کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے، واقعی ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔''

ص ز/ ج ا (روئٹرز)

کراچی کا اسلامک گارڈن